یونان میں ایک ہفتے کے دوران یومیہ کیسز میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یونان میں ایک ہفتے کے دوران یومیہ کیسز میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ موسم بہار میں بہتر کارکردگی کے باوجود وہاں 124 نئے کیسز 24 گھنٹوں میں سامنے آئے۔

ملک کے وزیراعظم نے عوام کو کہا ہے کہ پابندیوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے انھوں نے ایسا نہ کرنے والوں کو خبردار کیا ہے۔

ادھر فرانس میں گذشتہ دو ماہ کے دوران کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی سب سے زیادہ تعداد بدھ کے روز سامنے آئی ہے۔

حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 24 گھنٹوں میں سامنے آنے والے مریضوں کی تعداد 1695 ہے۔ خیال رہے کہ 30 ہزار سے زیادہ اموات کے ساتھ فرانس کورونا وائرس سے متاثر ہونے والا تیسرا بڑا یورپی ملک ہے۔

فرانس کے شہر تولوس میں اب پرہجوم گلیوں میں ماسک استعال کرنا لازم ہوگا اور اسی طرح پیرس اور کئی دیگر شہروں میں بھی اس پر عمل کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

فرانس اموات کے حساب سے یورپ میں اس وقت تیسرے نمبر پر ہے

فرانس وہ واحد یورپی ملک نہیں جہاں لاک ڈاؤن میں کی جانے والی نرمی کے بعد وائرس کے کیسز میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔

اسی طرح سپین میں بدھ کے روز 1772 نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک میں کل مریضوں کی تعداد 305767 ہوگئی ہے۔

سپین سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا کہ جون میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

سوئٹزر لینڈ نے سپین سے آنے والے مسافروں کے لیے قرنطینہ کو لازم قرار دیا ہے اگرچہ اس کا یہ اصول کینری اور بیلیرک جزیروں سے لوٹنے والوں کے لیے نہیں ہے۔

گذشتہ ماہ برطانیہ نے سپین کو ان ممالک کی فہرست سے نکال دیا تھا جن کے لیے قرنطینہ لازم نہیں تھا یعنی وہاں سے آنے والوں کے لیے لازم تھا کہ وہ 14 روز کے لیے قرنطینہ ہو جائیں۔

جرمنی نے اب بیلجیئم کے شہر اینٹورپ سے لوٹنے والوں کے لیے قرنطینہ لازم ہے۔ جرمنی میں صحتِ عامہ کے ادارے نے اس شہر کو خطرناک علاقہ قرار دیا تھا۔

جواب دیں

This site is protected by wp-copyrightpro.com